یہ ملک ہے یا ریاستی دہشت گردی کا اڈّہ ؟ میں بطور پاکستانی ، اپنی ہی بہن سے شرمندہ ہوں، نا اس کے ساتھ کھڑا ہوں نا اس کے زخموں پر مرہم رکھ س...
یہ ملک ہے یا ریاستی دہشت گردی کا اڈّہ ؟
میں بطور پاکستانی ، اپنی ہی بہن سے شرمندہ ہوں، نا اس کے ساتھ کھڑا ہوں نا اس کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہوں۔ تربت سے اسلام آباد تک اس ٹھنڈ میں آنے والے اس کے کافلے کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے، اس بدلہ اسلام آباد پولیس کو گالی دینے سے نہیں لیا جاسکتا جو سوشل میڈیا پر پنجاب کی عوام کررہی ہے۔ یہ ظلم کی شکل ہے جس کا مصوّر ریاست ہے اور ریاست کے جابرانہ نظریے کی عکاسی کبھی اسلام آباد پولیس کرتی ہے ، کبھی بلوچستان میں رائج ایف سی اور سندھ میں انڈس رینجرز ۔ تو کبھی فوج پشتونوں کو کچلنے کیلئے اتاری جاتی ہے۔
فوج روزگار بھی چھینتی ہے، کاروبار بھی، ہماری زمین و علاقے بھی اور بندوق کی نالی سے راستہ بنانے والے یہ جاہل یہ نہیں سمجھتے کہ عوام جو نفرت ان کے لئے دل میں پال رہی ہے وہ اگلی نسلوں تک کئی گنا سود کے ساتھ منتقل بھی ہورہی ہے۔
جہاں اس ملک کی اشرافیہ اپنے محل دوبئی میں بنا رہی ہے وہاں مڈل کلاس اس ملک کو ہی چھوڑ کر جارہی ہے، اور مزدور بے چارہ، افریقہ و عرب سے لیکر ترکیہ و یونان تک مزدوری کرکے غریب الوطن کی زندگی گزار رہا ہے۔ نا وہ جیتا ہے نا مرتا ہے بس اپنی سانسیں پوری کررہا ہے۔ لیکن اس دنیا میں جتنے مزے کرلیں، آخرت تو محشر کے دن ہوگی اور وہ ان ظالموں پر نا ختم ہونے والے دن کی طرح ہوگا۔ جب مظلوم کے ہاتھ میں درّہ ہوگا اور ان جابروں کی پشت ہوگی۔ اس دن میں انتقام لوں گا۔ اپنی مجبوری کا، اپنی بے بسی کا۔ اور ان کو یاد کرواؤں گا جو جو ظلم انہوں نے میرے ہم وطنوں پر کئے ۔ اس اقتدار کے لالچ میں اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، بیوروکریسی اور سیاست دانوں کے یہ چاروں فرقے تحہ تیغ ہوں گے
ماہ رنگ بلوچ ہویا عافیہ صدیقی، صحافی ارشد شریف کی بیوہ ہو یا شیریں مزاری یا علّامہ اقبال کی بہو جسٹس ناصرہ اقبال یہ تمام خواتین اس ظلم سے متاثر بھی ہيں اور نالاں بھی ۔ لعنت و بد عا کا حق تو اللہ کا دیا ہوا ہے اور میں یہ حق استعمال کرتا رہوں گا اس بلاگ کے ذریعے ، سوشل میڈیا سے یا با بنگ دہل میں بھولوں گا نہیں اور ان جرنیلوں، ججوں، بیوکریٹس، پولیس افسران، سیاسی ٹھگوں کو بھولنے دوں گا جو ظلم یہ ہم پر کرتے ہیں۔
No comments