اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ تنازع نے نہ صرف خطے کو قتل و غارت کی نذر کیا بلکہ عالمی برادری کے سامنے کئی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 7 اک...
اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ تنازع نے نہ صرف خطے کو قتل و غارت کی نذر کیا بلکہ عالمی برادری کے سامنے کئی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل نے غزہ کو نشانہ بنایا، اور فلسطینیوں پر جو مظالم ڈھائے گئے، وہ عالمی سیاست، معیشت، اور انسانی حقوق پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ تاہم، اسرائیلی بیانیے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کے نقصان کو 45 فیصد کم ظاہر کیا جا رہا ہے، جو حقیقت سے کہیں دور ہے۔
فلسطینی نقصان: ایک سنگین حقیقت
جنگ کے دوران فلسطینیوں کو ناقابل بیان جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 47 ہزار فلسطینی شہید ہوئے، جن میں بڑی تعداد عورتوں اور معصوم بچوں کی تھی۔ لیکن بین الاقوامی میڈیا اور اسرائیلی بیانیے نے یہ تعداد 45 فیصد کم دکھائی، جس سے فلسطینیوں کی مشکلات کی شدت کم ظاہر ہوئی۔ غزہ کی گلیاں خون سے سرخ ہو گئیں، اور ہر گھر میں شہداء کی کہانیاں موجود تھیں۔ باوجود اس کے، دنیا بھر میں فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کے مظاہرے تو دیکھنے میں آئے، لیکن کوئی خاطر خواہ امداد نہ پہنچ سکی۔
اسرائیل کا مالی نقصان اور عالمی مخالفت
اس جنگ کے دوران اسرائیل کو نہ صرف فوجی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ اس کی معیشت کو بھی زبردست دھچکا لگا۔ اندازوں کے مطابق، اسرائیل نے اس تنازع پر 67 ارب ڈالر جھونک دیے، جو اس کے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ ہے۔ ان اخراجات میں جنگی ساز و سامان، فوجیوں کی نقل و حرکت، اور غزہ میں بمباری کے لیے درکار وسائل شامل تھے۔ تاہم، اسرائیلی کارروائیوں کے باعث دنیا بھر میں اسرائیل مخالف جذبات میں اضافہ ہوا۔ یونیورسٹیوں، عوامی مقامات، اور سماجی میڈیا پر اسرائیل کے اقدامات کے خلاف مظاہرے ہوئے، جنہوں نے اسرائیل کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔
تاریخ میں پہلی بار فلسطینیوں کی آواز کی گونج
یہ جنگ ایک منفرد پہلو بھی لے کر آئی، جہاں پہلی بار فلسطینیوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے موثر انداز میں پیش کیا۔ جدید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، وائرل ویڈیوز، اور زندہ بچ جانے والے افراد کی داستانوں نے دنیا بھر میں لوگوں کو چونکا دیا۔ فلسطینیوں کی مزاحمت اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کی کہانیاں ہر زبان پر گونجنے لگیں۔ پوری دنیا میں ٹویٹر اور فیسبک کی پابندی کے باوجود فلسطین میں ظلم کی گواہ پوری دنیا ہے۔ لیکن، عالمی برادری کی حمایت زبانی مذمتوں تک محدود رہی، اور عملی امداد نہ ہونے کے برابر تھی۔
جنگ بندی کے بعد بھی حملے اور گارنٹی کی عدم موجودگی
جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود، غزہ کے عوام کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔ اسرائیل نے سیز فائر کے بعد بھی حملے جاری رکھے، جن میں 81 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔ کسی بھی بین الاقوامی طاقت نے اسرائیل کو مستقبل میں ایسی کارروائیوں سے روکنے کی ضمانت نہیں دی۔ یہ صورتحال فلسطینیوں کے لیے ایک مستقل خوف کی علامت بن چکی ہے، کیونکہ غزہ اب بھی اسرائیلی جارحیت کے نشانے پر ہے۔
پوری دنیا کا کردار: خاموشی یا حمایت؟
جنگ کے دوران کئی یورپی اور اسلامی ممالک کی بے حسی اور اسرائیل نوازی نے فلسطینیوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ جرمنی، فرانس، اور دیگر یورپی ممالک نے اسرائیل کی حمایت میں بیانات دیے، جبکہ سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے اسلامی ممالک نے محدود مذمت کے ساتھ فلسطینیوں کے لیے عملی امداد فراہم نہیں کی۔ آذربائیجان نے بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے کو ترجیح دی، جس نے اسلامی اتحاد کے فقدان کو مزید واضح کیا۔
تباہ حال فلسطین اور عالمی بے حسی
غزہ کی موجودہ حالت تباہ حال ہے۔ جنگ بندی کے باوجود، شہر میں نہ پانی ہے، نہ بجلی، اور نہ ہی بنیادی ضروریات زندگی میسر ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں نے امداد کے وعدے تو کیے، لیکن یہ امداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ فلسطینیوں کے گھر، اسکول، اور اسپتال ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، اور دوبارہ تعمیر کے لیے کوئی موثر منصوبہ نظر نہیں آتا۔
نتیجہ: نامکمل جنگ بندی اور غیر یقینی مستقبل
یہ جنگ فلسطین کے لیے ایک اور المیہ ثابت ہوئی، جہاں نسل کشی، مالی نقصان، اور عالمی بے حسی نے فلسطینیوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا۔ دنیا بھر کی حکومتوں کے مفادات انسانی جانوں نے زیادہ قیمتی نکلے۔ جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل کے دوبارہ حملے کا خطرہ موجود ہے، اور فلسطینی عوام کے لیے امن ایک خواب سا لگتا ہے۔ عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔
فلسطین پر فیض احمد فیض کی نظم پر اختتام کرتے ہوئے کہ:
وہ در کھلا میرے غم کدے کا، وہ آ گئے میرے ملنے والے
وہ آ گئی شام اپنی راہوں میں، فرش افسردگی بچھانے
وہ آ گئی رات چاند تاروں کو، اپنی آزردگی سنانے
وہ صبح آئی دمکتے نشتر سے، یاد کے زخم کو منانے
وہ دوپہر آئی، آستیں میں، چھپائے شعلوں کے تازیانے
یہ آئے سب میرے ملنے والے، کہ جن سے دن رات واسطہ ہے
پر کون کب آیا، کب گیا ہے، نگاہ و دل کو خبر کہاں ہے
خیال سوئے وطن رواں ہے، سمندروں کی ایال تھامے
ہزار وہم و گماں سنبھالے، کئی طرح کے سوال تھامے
No comments